اردو فلم انڈسٹری — ایک زلف، ایک زخم، ایک زندہ کہانی
اردو فلم انڈسٹری وہ پرانی گلی ہے جہاں کبھی روشنی کے قمقمے جلتے تھے اور آج نئی لہر کے امکانات ابھر رہے ہیں۔
اردو فلم انڈسٹری وہ پرانی گلی ہے جہاں کبھی روشنی کے قمقمے بھی جلتے تھے اور کبھی تنہائی کا دھواں بھی اٹھتا تھا۔ یہ وہی راہ ہے جس پر ماضی کے فنکار اپنے خواب بکھیر کر گئے تھے، اور آج کے نوجوان انہی خوابوں کے ٹکڑوں کو جوڑ کر دوبارہ چمک پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سفر سیدھا نہیں—ٹوٹی ہوئی ریلز، بند ہوتے سینما، کمزور بجٹ، اور سست رفتاری نے اسے دھندلا ضرور کیا، مگر مٹا نہ سکے۔
اہم سوالات
سچ یہ ہے کہ اردو فلم انڈسٹری ہمیشہ ہی سوالوں میں گھری رہی:
- کیا اسے وہی پرانا جادو واپس مل سکتا ہے؟
- کیا نیا دور اسے دوبارہ عروج دے سکتا ہے؟
- یا ہم صرف یادوں کے سہارے زندہ ہیں؟
نسل، جذبہ اور حقیقت
پھر بھی، ہر نسل کا اپنا جنون ہوتا ہے۔ Gen Z تو ویسے بھی بڑے سوال اٹھانے والی مخلوق ہے۔ ہم پرانی فلموں کا رومانس بھی دیکھتے ہیں اور نئے زمانے کی بے رحمی بھی۔ ہم مانتے ہیں کہ پرانے وقتوں کی craft کچھ اور تھی—مگر یہ بھی سچ ہے کہ آج کا نوجوان کم کے ساتھ زیادہ کر جاتا ہے۔
آج کی حقیقت
- جدید کیمرے، مگر بجٹ کم
- نئے ٹیلنٹ کی بھوک، مگر پلیٹ فارم محدود
- روایتی کہانیاں، مگر نیا لہجہ
- سوشل میڈیا کا شور، مگر فلم بنانے والوں کی خاموش جنگ
حالات اور امید
یہ سارا ماحول ایک Wabi-Sabi vibe دیتا ہے—خام، ادھورا، مگر دل کو لگتا ہے۔ کچھ ٹوٹا ہوا، کچھ بنتا ہوا۔ ہاں، مشکلات اپنی جگہ: فنڈنگ کم، سینما ہال گرتے ہوئے، ریلیز کا کلچر کمزور۔ لیکن کہانی کبھی مر نہیں سکتی۔ کوئی نہ کوئی نیا لڑکا، نئی لڑکی کیمرہ اٹھاتی ہے، اسکرپٹ لکھتی ہے، اور کہتی ہے:
“نہیں، میں کچھ نیا بنا کر دکھاؤں گا۔”
مستقبل
انتہائی سادہ جواب: اگر OTT، YouTube فلمز، اور micro-budget cinema نے ہاتھ پکڑ لیا تو نئی لہر آئے گی۔ ورنہ وہی پرانا راگ: وعدے زیادہ، کام کم۔
لیکن میں hopeful ہوں، کیونکہ نئی نسل بے چین ہے۔ اور بے چین لوگ ہی فلمیں بناتے ہیں۔
